بنگلورو،10؍ جولائی(ایس اونیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے منگلور میں آر ایس ایس کارکن کے قتل کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا اور وزیر جنگلات رمناتھ رائے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ آج ترویکیرے میں بی جے پی کارکنوں کی میٹنگ سے خطاب سے قبل اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ رمناتھ رائے اگر ایک مہینہ دکشن کنڑا ضلع نہ جائیں تووہاں کے حالات دوبارہ پرامن ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے اراکین پارلیمان نلن کمار کٹل اور شوبھا کارند لاجے کے خلاف مقدمہ درج کرکے وزیراعلیٰ سدرامیا نے اپنی ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ سدرامیا کو ریاست کی نظم وضبط کی صورتحال کی نگرانی میں نااہل قرار دیتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دکشن کنڑا ضلع میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر حکومت بی جے پی کے حق میں اٹھنے والی لہر کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ پچھلے چار سال کے دوران کانگریس حکومت میں 25سے زائد بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں کا قتل ہوا ہے، اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے بات چیت کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کو سخت ہدایت دی جائے کہ نظم وضبط کی نگرانی میں جانبداری نہ برتے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بی جے پی کے ساتھ انتقامی سیاست کی جارہی ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر جنگلا ت رمناتھ رائے کے خلاف کارروائی کریں۔